خاص مضمون

وزیر اعظم پیکیجنگ، ری پیکیجنگ میں ماہر: سونیا گاندھی

نئی دہلی: کانگریس صدر محترمہ سونیا گاندھی نے 3 اکتوبر، 2015 کو بہار میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔ پانچ مراحل میں اسمبلی انتخابات کے اعلان کے بعد پہلے مرحلہ کے کانگریس کے انتخابی جلسوں کے سلسلے میں محترمہ سونیا گاندھی نے كہلگاؤں (بھاگلپور) اور وزیرگج (گیا) میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔ محترمہ سونیا گاندھی نے وزیرگج میں پہلی انتخابی ریلی سے خطاب کیا جہاں پہلے مرحلہ میں 16 اکتوبر کو ووٹنگ ہونی ہے۔بھاگلپور میں کانگریس صدر محترمہ سونیا گاندھی نے ہمیشہ بیرون ملک رہنے کی عادت کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کی تنقید کی۔ انتخابات کے پروگرام کے اعلان کے بعد 3 اکتوبر، 2015 کو پہلے انتخابی اجلاس میں محترمہ گاندھی نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ تقسیمی پالیسیوں اور جھوٹے وعدوں کو مسترد کر دیں۔ کانگریس صدر نے ملک کو کم وقت دینے کے لئے بھی وزیر اعظم کی تنقید کی۔مسز گاندھی نے کہا کہ نریندر مودی کی سترہ مہینوں کی یہ حکومت ملک پر کیسی گزری ہے، اس سے آپ سب واقف ہیں۔ ان کی عوام مخالف پالیسیوں کا اثر بھاگلپور اور آس پاس کے علاقوں پر بھی براہ راست طور پڑا ہے، جس سے ہمارے ہزاروں کسانوں، مزدوروں اور بنکروں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔ کانگریس صدر محترمہ گاندھی نے پوچھا کہ ہم ایسی حکومت سے کیا توقع کریں؟ صرف کچھ گنے چنے صنعت کاروں کو چھوڑ کر آج ملک میں کون پریشان نہیں ہے؟ کیا کھانے پینے کی چیزیں مہنگی نہیں ہوئی ہیں؟

اداریہ

اداریہ

ان کے علاوہ کچھ چھوٹے چھوٹے گروہ اور جماعتیں بھی میدان میں ہیں۔ بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے نے وزیر اعظم کو بہاریوں کے نجات دہندہ کے طور پر پیش کر رکھا ہے جبکہ جنتا دل (یو) کے رہنما مسٹر نيتيش کمار مہاگٹھبندھن کی قیادت کر رہے ہیں۔ راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس اس کی اتحادی پارٹیاں ہیں۔ جب انتخابات شروع ہوئے تھے تو دونوں سیاسی گروپوں نے ترقی کو اپنا ایجنڈہ بتایا تھا، لیکن مرکز میں گزشتہ 16 ماہ کے دوران اپنی کامیابیوں سے قوم کو متاثر کرنے میں ناکام بی جے پی نے اپنا موقف تبدیل کر دیا ہے اور فرقہ وارانہ خلیج پیدا کرنے کی اپنی پرانی حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔ اتر پردیش کے دادری کی واردات بہار میں ان کا یہ مقصد پورا کرے گی، کیونکہ پورے ملک میں اس پر بحث چھڑ گئی ہے اور "گائے کشی" اور دیگر واردات ان کے موافق ماحول پیدا کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔

شاستری جی نے مہاتما گاندھی کے اصولوں پر سچے دل سے عمل کیا

چھوٹے قد لیکن خوبصورت دل کے مالک آںجہانی لال بہادر شاستری نے اپنی پوری زندگی ملک اور انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ انتہائی اہم بات ہے کہ امن اور خیر سگالی کی اس علامتی شخصیت کی پیدائش 2 اکتوبر کو ہوئی تھی جو دنیا کی عظیم ترین شخصیت مہاتما گاندھی کی بھی یوم پیدائش ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔ یہ کام قدرت کا تھا جس نے ان دونوں عظیم شخصیات کو ہندوستان کی سر زمین پر ایک خاص مقصد کی تکمیل کے لئے بھیجا تھا۔

راجستھان بی جے پی حکومت کا سب سے بڑا کا نکنی گھوٹالہ

جب کھیت کا محافظ ہی کھیت کو کھانے لگے تو اس کھیت کا وجود ختم ہونا یقینی ہے۔ اس کہاوت کو ثابت کیا ہے راجستھان بی جے پی حکومت نے۔ بے شمار معدنیات کے خزائن کو سرکاراپنی تحفظ میں کان کن مافیا کے سپرد کر رہی ہے۔

راجستھان کانکنی الا ٹمنٹ میں 45000 کروڑ روپے سے زیادہ کا گھوٹا لہ

محض سولہ ماہ قبل '' نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا" کا نعرہ لگانے والے وزیراعظم نریندرمودی کی ناک کے نیچے بی جے پی کی راجستھان، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کی حکومتیں گھوٹالوں پر گھوٹالے کر رہی ہیں اور مودی جی بے خبر بیٹھے ہیں۔ راجستھان میں بارودی سرنگوں کے الاٹمنٹ میں تقریبا 45000 کروڑ روپے کے اس گھوٹالے کو سمجھنے کے لئے کچھ اہم حقائق کو سمجھنا ضروری ہے۔

کانگریس آگے کے چیلینجیز کے لئے تیار ہے: سونیا گاندھی

ہم لوگ یہاں 2014 کے پارلیمانی انتخابات کے تئیں فیصلہ کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ آج ہم یہاں اس لئے جمع ہوئے ہیں تاکہ ہم یہ اشارہ دے سکیں کہ کانگریس تیار ہے اورسامنے جو انتخابی جنگ ہے ہم اس میں پوری طاقت کے ساتھ اتریں گے۔ یہ انتخابات متضاد ایشوز کے درمیان، ماضی کی تشریحات اورمستقبل کے درمیان زبردست مقابلوں کے گواہ ہوں گے۔ اس انتخاب میں ہمیں قومی ہم آہنگی سماجی قومی شناخت کے ساتھ اترنا ہے۔ جب بھی کبھی ہم اس طرح کے اجلاس میں جمع ہوتے ہیں، تو ہم رک رک کرسوچتے ہیں اورفخر سے یہ یاد کرتے ہیں کہ ہم کس کے لئے جدوجہد کررہے ہیں اور ہماری قیمت کیا ہے۔ اس کے لئے جواہر لال نہرو کے 125 ویں سالگرہ سے بڑھ کر مناسب وقت کون سا ہو سکتا ہے۔ آزادی کے فوری بعد انہوں نے ہی یہ کہا تھا کہ کانگریس نے ہمیشہ خطرہ پیدا ہونے کی صورت میں ہمت سے کام لیا ہے اور ہر مشكل کا سامنا کیا ہے۔ ماضی میں کانگریس کے سامنے پیچیدہ مسائل تھے۔ کانگریس نے پورے صبرسے ان کا سامنا کیا۔ وہ وقت آج کے وقت سے زیادہ مشکلات بھرا تھا۔ ہم جن ایشوز، اقدار کی بنیاد پر ٹکے ہوئے ہیں، ان عزائم کو برقرار رکھ کر ہم نے یہ دکھایا ہے کہ ہمارے اندرنئی طاقت کا مواصلات ہوا ہے۔ زمانے سے یہ عظیم ملک علاقائی زبانوں، مذاہب، روایات کے بندھن میں بندھا ہے۔ آج، اس ہم آہنگی کے خلاف ملک کے سامنے کچھ چیلنجزدر پیش ہیں۔ کچھ متشدد طاقتوں کے ذریعہ ملک کی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میں یہ حقیقت اجاگر کرنا چاہتی ہوں کہ کس طرح ہماری پارٹی اور ہماری حکومت نے گزشتہ ایک دہائی میں کچھ اہم پالیسیوں اور پروگراموں کے ذریعہ ان چیلنجوں کا جواب دیا ہے۔ پہلا چیلنج ہے: ترقی : ہم نے بھرپور اقتصادی ترقی کی ہے۔ اس ترقی کے لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اس کا کریڈٹ ملنا چاہئے، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ مشکلات اب بھی موجود ہیں۔ ترقی کرنالازمی بات ہے اور یہ مستقل ہونا چاہئے۔ صرف تیزی سے ہونے والی ترقی سے ان مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا جوعدم مساوات سے پیدا ہوتے ہیں ۔

وزیر اعظم کی ترجیح: تعلیم کی زعفران کاری اور فرقہ وارانہ عدم برداشت

ہندوستان کے رہنما اصولوں کے مطابق ہندوستان ایک سوشلسٹ، سیکولر، جمہوری ملک ہے۔ آئین کے مطابق حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس آئین ہندوستان کے تمام شہریوں کو سماجی، اقتصادی اور سیاسی انصاف، اظہار خیال، عقیدہ، مذہب اور عبادت کی آزادی، وقار اور مواقع میں برابری کا حق دیتا ہے۔ تعلیم کے ذریعہ انسانی دماغ کا بہترین استعمال کیا جانا ممکن ہے، اسی لئے تمام دنیا کو ایک یونٹ سمجھ کر ہی تعلیم کا انتظام کیا جانا چاہئے۔

مودی ملبوسات اور غیر ملکی دوروں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں: راہل گاندھی

بیگوسرائے / شیخ پورہ / روہتاس: وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف ایک تازہ الزام عائد کرتے ہوئے مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ انہیں صرف غیر ملکی دورے ہی کرنے ہیں اور اپنے نئے نئے لباس کا مطاہرہ کرنا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ امریکہ کے دورے کے دوران مسٹر مودی نے مختلف اوقات میں 16 مرتبہ کپڑے بدلے تھے۔ مودی حکومت کے خلاف 'سوٹ بوٹ کی سرکار' کے اپنے تیر کو زیادہ دھاردار بناتے ہوئے، مسٹر گاندھی نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم کو ہندوستان کے کسانوں یا پھر غریبوں کی قابل رحم حالت سے کوئی مطلب نہیں ہے۔

دیہی طبقات میں خواتین کی بناہ خدمات کو تسلیم کیا جائے: سونیا گاندھی

پہلا عالمی یوم دیہی خواتین 15 اکتوبر، 2008 کو منایا گیا۔ اس دن پورا ملک دیہی خواتین کی اس کردار کو تسلیم کرتا ہے جو وہ زراعت اور دیہی ترقی، خوراک تحفظ کو بہتر بنانے اور دیہی غربت کے خاتمے میں ادا کر رہی ہیں۔ خصوصی دن کے ساتھ دیہی خواتین کی عزت افزائی کا خیال 1995 میں چین کی دارالحکومت بیجنگ میں چوتھی عالمی خواتین کانفرنس کے موقع پر سامنے آیا تھا۔

مدیر

ڈاکٹر گریراج ویاس


ارکان ادارتی بورڈ

سلمان خورشید
جئے رام رمیش


ادارتی معاونین

رام نریش سنہا
رتن فرانسس


منیجر

کمل شاہو


ادارتی آفس

کانگریس سندیش،
آل انڈیا کانگریس کمیٹی<
24 اکبر روڈ،
نئی دہلی - 110011
فون : 23019080 اکس ٹینشن: 429
فیکس: 23017047
ای میل: aicccongresssandesh@gmail.com
congress-sandesh@hotmail.com
ویب سائٹ:


پبلشر

موتی لال وورا
ہر ماہ موتی لال وورا کے ذریعہ سندیش ٹرسٹ اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی جانب
سے چار دشائیں پرنٹرس، جی- 40 ، سیکٹر - 3، نوئڈا 201301 سے چھپوا کر شائع کیا
جاتا ہے۔