حقیقت جانیں

آئیے رکارڈ کا سیدھا تجزیہ کریں
April, 28
اڈانی کے لئے مودی کی دریا دلی

گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے سارے قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسٹر اڈانی کو 1-32 روپے فی مربع میٹر کے حساب سے 15946.32 ایکڑ قطعہ اراضی عطا کی ہے۔ اس 1 روپیہ کے مقابلہ میں ماروتی سزوکی، ٹاٹا موٹرس، ٹی سی ایس، فورڈ انڈیا اور ٹورنٹ پاور نے 670 سے 6000 گنا زیادہ قیمت فی مربع اسکوائر میٹر ادا کی ہے۔ حکومت گجرات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اڈانی کے علاوہ کسی بھی دوسری کمپنی کو اتنی سستی قیمت پر زمینیں نہیں دی گئی ہیں۔ مسٹر مودی کی حکومت میں مسٹر اڈانی کے اثاثوں میں زبردست اضافہ ہوا، جہاں ان کے پاس 2002 میں 765 ملین ڈالر تھے وہیں 2013 میں وہ 8.8 بلین ڈالر کے مالک ہو گئے۔ کیا مسٹر مودی کے بازار دوست یا تجارت دوست ہونے کا یہی مطلب ہے؟ اس طرح کی حرکتوں؛ مسابقہ جاتی بولی کے حقوق سلب کئے جانے اور صرف ایک صنعت کار کو فروغ دئے جانے کو ماہرین معاشیات اقربا پروری پر مبنی سرمایہ داریت کا نام دیتے ہیں۔ کیا مودی واقعی تجارت دوست ہیں یا وہ صرف اڈانی دوست ہیں؟

SHARE
April, 27
پنجاب میں اکالی – بی جے پی کی بدعنوانی

پنجاب کے وزیر اعلیٰ مسٹر بادل کہتے ہیں کہ "کوئی لوک پال اس ملک سے بدعنوانی کو ختم نہیں کر سکتا۔" وہ کیا کہ رہے ہیں، اس سے بخوبی واقف ہیں۔ ہوٹی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے سبب ان کی اپنی فیملی Badal Inc کے نام سے معروف ہے۔ ان کے دو وزراء اور ایم ایل اے بدعنوانی کے ملزم ہیں۔ ریاست کے ایک سابق وزیر مالیات کا ماننا ہے کہ "پنجاب ملک کی سب سے بد عنوان ریاست ہے۔ جو لوگ ملک کو لوٹ رہے ہیں انہیں وزراء کے ذریعہ بڑی سرگرمی کے ساتھ تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔" ایسی صورت اگر وزیر اعلیٰ مسٹر بادل لوک پال بل کا مزاق اڑاتے ہیں تو اس میں تعجب نہیں ہونا چاہئے۔

SHARE
April, 25
پنجاب میں اکالی- بی جے پی ڈرگ ریکیٹ

2012 میں کانگریس کے نائب صدر جناب راہل گاندھی نے پنجاب میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کا معاملہ اٹھایا تھا۔ اس وقت اکالی- بی جے پی ریاستی حکومت نے مسٹر گاندھی کا وہ بیان مسترد کر دیا تھا، لیکن آج پنجاب حکومت کے ان وزراء پر ہی 700 کروڑ کے ڈرگ ریکیٹ میں شامل ہونے کا الزام عائد ہوا ہے۔ یہ وہی ڈرگ ہے جس نے پنجاب کے نوجوانوں کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ پنجاب میں آج 75 فیصد نو جوان منشیات کے عادی ہیں، جبکہ 65 فیصد فیملیاں اس سے متاثر ہیں۔ کیا پنجاب کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے؟

SHARE
April, 23
مدھیہ پردیش: فوٹوشاپ ماڈل

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے لیڈران یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے "بیمارو" ریاست کو پٹری پر لا کھڑا کیا ہے۔ لیکن بی جے اپنے وعدے کے مطابق سرفہرست تین شعبوں یعنی بجلی، سڑک اور پانی کی بہتری میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ابھی بھی مدھیہ پردیش میں ترقی کے اشاریے ملک میں سب سے زیادہ برے ہیں۔ اتنے برے کہ وزیراعلیٰ دہلی-کولکتہ ہائی وے اور ایرانی کھیت کی تصویروں کے سہارے ریاست کی فوٹوشاپ ترقی دکھانے پر مجبور ہیں۔

SHARE
April, 23
مدھیہ پردیش: فوٹوشاپ ماڈل

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے لیڈران یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے "بیمارو" ریاست کو پٹری پر لا کھڑا کیا ہے۔ لیکن بی جے اپنے وعدے کے مطابق سرفہرست تین شعبوں یعنی بجلی، سڑک اور پانی کی بہتری میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ابھی بھی مدھیہ پردیش میں ترقی کے اشاریے ملک میں سب سے زیادہ برے ہیں۔ اتنے برے کہ وزیراعلیٰ دہلی-کولکتہ ہائی وے اور ایرانی کھیت کی تصویروں کے سہارے ریاست کی فوٹوشاپ ترقی دکھانے پر مجبور ہیں۔

SHARE
 
انڈین نیشنل کانگریس، 24، اکبر روڈ، نئی دہلی – 110011، انڈیا، ٹیلیفون: 23019080-11-91 | فیکس: 23017047-11-91 | ای میل: connect@inc.in © 2012-2013 کل ہند کانگریس کمیٹی۔ جملہ حقوق محفوظ ۔ شرائط و ضوابط | رازداری پالیسی