نمایاں ترین

1/10/2017 12:00:00 AM

جن ویدنا سمیلن



11 جنوری کو تال کٹورا اسٹیڈیم میں انڈین نیشنل کانگریس پورے ملک سے اپنے لیڈران، کارکنان اور نمائندوں کو جن ویدنا سمیلن میں جمع کر رہی ہے۔ اس سمیلن میں کانگریس اپنے کارکنان سے خطاب کرے گی اور مودی حکومت کے اسقاط زر کے فیصلہ کی وجہ سے عوام کو ہونے والی مختلف پریشنایوں کے تدارک پر گفتگو کرے گی۔ اس کے علاوہ پارٹی مودی حکومت کی ڈھائی سالہ مدت میں غریب اور عوام مخالف دیگر فیصلوں کو بھی نشانزد کرے گی۔

اسقاط زر کی قدرکاری کا بہترین طریقہ کیا ہے؟ یہ دیکھا جائے کہ اس کے مقاصد حاصل ہوئے یا نہیں اور اس کا عام آدمی پر کیا اثر پڑا۔ ہمارے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 8 نومبر 2016 کو 500 اور 1000 کے نوٹوں کو چلن سے واپس بلا لینے کا فیصلہ لیا۔ بظاہر ایسا کرنے کی وجوہات میں کالادھن، دہشت گردی اور جعلی کرنسی شامل تھے۔ اس لیے ہمیں مودی جی کو ان مقاصد کے حصول کا ذمہ دار قرار دینا چاہیے۔

آئیے جعلی کرنسی سے شروع کرتے ہیں۔ خود حکومت کے بیان کے مطابق گردش میں موجود کرنسی کا محض 0.02 فیصد ہی جعلی تھا۔ یہ بہت ہی معمولی تعداد تھی، جس کا تدارک اچھی پولس کاری کے ذریعہ کیا جا سکتا تھا۔

ابھی 2017 کو شروع ہوئے چند روز ہی گزرے ہیں اور ہم 3 دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کر چکے ہیں، جن میں ہمارے بہادر جوانوں اور جی آرای ایف کے انجینیروں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ اسقاط زر کی وجہ سے سرحد پر دہشت گردانہ حملوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ حتیٰ کہ نئے 2000 کے نوٹوں کے ساتھ بھی دہشت گرد پکڑے گئے ہیں۔

اب بلیک منی کا جائزہ لیتے ہیں، جسے بڑی قدروں کے نوٹوں کو غیرقانونی قرار دیے جانے کا اصل مقصد بتایا گیا تھا۔ اس موضوع پر ریزرو بینک آف انڈیا کی پراسرار خاموشی تعجب خیز ہے، لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق اسقاط زرشدہ کرنسی کا 97 فیصد سسٹم میں واپس آ چکا ہے۔ اگر نقد کالا دھن تھا تو کیا اسے سسٹم سے باہر نہیں رہنا چاہیے تھا؟ اس میں کتنا بلیک منی تھا؟ کتنے لوگوں کے خلاف جانچ ہو رہی ہے؟ جناب نریندر مودی جواب کیوں نہیں دے رہے ہیں؟

ابتدائی رجحانات ظاہر کر رہے ہیں کہ جی ڈی پی میں کمی آ رہی ہے۔ تقریباً 120 لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ چھوٹے تاجر برباد ہو چکے ہیں اور یومیہ مزدور فاقہ کشی کے شکار ہیں۔ کیا امیروں پر اس کا کوئی اثر پڑا ہے؟ لائنوں میں کون کھڑا تھا؟ کس کی آنکھوں میں آنسو تھے؟ علاج کے لیے نقد نہ ہونے کی وجہ سے، کسے اپنے عزیزوں کی آخری رسوم ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑا؟ وہ صرف اور صرف غریب اور کم آمدنی گروپ کے لوگ تھے۔ مودی جی کو انہیں جواب دینا ہوگا۔

 
انڈین نیشنل کانگریس، 24، اکبر روڈ، نئی دہلی – 110011، انڈیا، ٹیلیفون: 23019080-11-91 | فیکس: 23017047-11-91 | ای میل: connect@inc.in © 2012-2013 کل ہند کانگریس کمیٹی۔ جملہ حقوق محفوظ ۔ شرائط و ضوابط | رازداری پالیسی