نمایاں ترین

3/2/2017 12:00:00 AM

جھوٹے وعدوں کے بعد اب مودی فرضی جی ڈی پی فروخت کر رہے ہیں




حکومت کے اعداد و شمار قابل اعتماد ہوتے ہیں، یا کم از کم 2014 سے پہلے ہوا کرتے تھے۔ مرکز میں مودی حکومت کی آمد کے بعد اس بھروسے میں کمی آئی ہے۔ ابتدا سے ہی مودی حکومت یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ ہندوستان کی جی ڈی پی دیگر ترقی پذیر ممالک کے مقابلہ میں تیزی کے ساتھ ترقی کر رہی ہے، اعدادوشمار کی بازیگری کا سہارا لیتی رہی ہے۔ پوری دنیا کے ماہرین معاشیات حکومت کے اعدادوشمار پر شبہہ کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ حالیہ جی ڈی پی اعدادوشمار نے تو ماہرہن کو اچمبھے میں ڈال دیا ہے۔

حالیہ حکومتی اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اکتوبر – دسمبر 2016 کے مابین جی ڈی پی شرح ترقی 7 فیصد رہی ہے۔ اس ڈیٹا کے مطابق ہندوستانی معیشت نے 86 فیصد کرنسی نوٹوں کا اسقاط زر کرنے کے حکومتی فیصلے کا نوٹس بھی نہیں لیا ہے۔ وزیراعظم نے فخر کے ساتھ اعلان کیا کہ وہ صحیح تھے اور دنیا بھر کے ماہرین اقتصادیات غلط ہیں۔ انہیں کم از کم خود اپنی حکومت کا اقتصادی سروے پڑھ لینا چاہیے تھا جس میں کہا گیا ہے کہ 2016-17 میں معیشت 6.5 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی۔

حقیقت کیا ہے؟ اس نئے اعداد و شمار میں حکومت نے معیشت کا تقریبا 50 فیصد حصہ تشکیل دینے والے اجرت کمانے والوں میں سے 90 فیصد سے زائد کو روزگار دینے والے غیررسمی شعبوں کو سرے سے خاطر میں نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی وجہ سے بہت ماہرین آنے والے مہینوں میں نظرثانی شدہ نمبروں کے اجرا کا بے تابی سے انتطار کر رہے ہیں جس میں اس شعبہ کو بھی شامل کیا جائے گا۔

مزید پریشان کن بات یہ ہے کہ دوسرے نمبرات کی معتبریت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مینوفیکچرنگ 8.6 فیصد کا اضافہ دکھایا گیا تھا جبکہ صنعتی پیداوار کے انڈیکس -0.4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ مجموعی سرمایہ قائم کی تشکیل (جی ایف سی ایف) میں گزشتہ 3 سہ ماہیوں سے مستقل کم ہو رہی ہے۔ اس میں مالی سال 16 کی چوتھی سہ ماہی (اپریل – جون)، مالی سال 17 کی پہلی سہ ماہی (اپریل – جون) اور مالی 17 کی دوسری سہ ماہی (جولائی – ستمبر) میں بتدریج تیز تر شرح؛ 1.9 فیصد، 3.1 فیصد اور 5.6 فیصد کے ساتھ کم ہوئی ہے۔ 

اس ترقی کو سب سے اہم دھکا صارفین کے اخراجات سے لگا ہے۔ عوامی سطح پر دستیاب اعداد و شمار میں ظاہر کیا گیا ہے کہ اشیائے صرف کی فرموں کی آمدنی سست تھی۔ کاروں، گھریلو مصنوعات، مشروبات، وغیرہ کی فروخت نے نہ کے برابر ترقی دیکھی۔ تمام ثبوتوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ملازمتیں کم ہوئیں اور کاروباری اداروں پر تالے لگ گیے۔ کاروباریوں کے قرضوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروباری قرض لینے کی حالت میں نہیں ہیں۔

یہ مودی حکومت کی شناخت بن گئی ہے کہ ان کے سبھی دعوے حقیقت کی کسوٹی پر فیل ہوجاتے ہیں۔ اب وزیراعظم جھوٹے وعدوں سے آگے بڑح کر اب فرضی اعدادوشمار پھیلانے کے کام میں مصروف ہو گیے ہیں۔

 
انڈین نیشنل کانگریس، 24، اکبر روڈ، نئی دہلی – 110011، انڈیا، ٹیلیفون: 23019080-11-91 | فیکس: 23017047-11-91 | ای میل: connect@inc.in © 2012-2013 کل ہند کانگریس کمیٹی۔ جملہ حقوق محفوظ ۔ شرائط و ضوابط | رازداری پالیسی