نمایاں ترین

3/15/2017 12:00:00 AM

مودی حکومت کے ذریعہ جمہوریت کا مذاق : کیا سپریم کورٹ سے خطا ہوئی؟





اغوا، دل بدل کا عمل، دھونس دھمکی اور گول بندی کا عمل ۔ یہ مودی حکومت میں " ہندوستان کا نیا ویزن" ہے۔ پناجی اور امپھال میں ہر چند کہ بی جے پی ہار گئی لیکن اس نے عوامی منڈیٹ کو یرغمال بنا لیا اورایسا کر کے آئین کی تمام شقوں کی دھجیاں اڑائی گئیں۔

بی جے یہ کہتی ہے کہ  گورنر اس بات کے لئے آئینی طور پر جواب دہ نہیں ہے کہ وہ سب سے بڑی پارٹی کوہی حکومت سازی کی دعوت دے ۔ حالانکہ 9 ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے اس سلسلے میں اپنا فیصلہ ان الفاظ میں سنا یا ہے۔ اس بنچ کی قیادت ایس آربماوی کر رہے تھے۔ " ہم یہ بات واضح کر دیں کہ ہم نے جو فیصلہ سنا یا ہے وہ حالات سے مربوط ہے حالات کے مطابق ان کا انطباق ہوگا۔ اگر کوئی موجودہ وزیراعلیٰ انتخابات میں اکثریت کھو دے تو اس حالت میں یہ فیصلہ مانا جائے گا لیکن اگرجنرل الیکشن ہو تو ایسی صورت میں جو سب سے بڑی پارٹی ہے اسی کو حکومت سازی کے لئے گورنر مدعو کرے گا۔"

یہ فیصلہ بتاتا ہے کہ اگر کسی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو تو گورنر کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب سے بڑی پارٹی کو حکومت سازی کے لئے مدعو کرے۔ اگر اس بات کا خیال رکھا جا تا تو گوا اور منی پور میں کانگریس کی سر کار بنتی لیکن آئین کو بالائے طاق رکھ کر ان دونوں مقامات پر بی جے پی نے حکومت سازی کر لی۔

ایک منصف نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ ہمیشہ صحیح نہیں ہوتا ، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کا فیصلہ آخری ہوتا ہے اس لئے اسے صحیح مان لیا جا تا ہے۔ تو کیا یہ مان لیا جائے کہ ایسا کرکے سپریم کورٹ نے غلطی کی ہے ۔ اور بی جے پی کے حق میں فیصلہ دے کر ایک غلط روش کو رواج دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ تو ایک جادو ہے جس کے ذریعہ اقلیت کو اکثریت میں بدل دیا جا تا ہے۔

گوا نے نہ صرف یہ کہ کانگریس کو 17 اورایک آزاد امید وار کو فاتح بنایا بلکہ گوا کے لوگوں نے بی جے پی کو بری طرح ہرا یا۔ بی جے پی کے وزیر اعلیٰ ہار گئے اور ان کے ساتھ 6 وزرا کو بھی گوا کے عوام نے باہر کا راستہ دکھا دیا۔ بی جے پی کو 21 سیٹوں سے عوام نے 13 پر پہنچا دیا۔ بی جے پی جو اپنے آپ کو سب سے زیادہ مختلف پارٹی بتاتی ہے اس نے عوامی مینڈیٹ کو چرا کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ واقعی سب سے الگ اور مختلف پارٹی ہے۔ اب مودی برانڈ الیکشن نہیں بلکہ ڈیفیکشن ہو گیا ہے۔ اسی طرح کا گھنائونا کھیل امپھال میں بھی کھیلا گیا۔ یہاں کانگریس کو 28 سیٹیں ملیں تھی اور بی جے پی کو 21 سیٹیں لیکن بی جے پی نے توڑ جوڑ کرکے حکومت بنا لی۔

ان کی دیدہ دلیری بہت واضح ہے ۔ مسٹر امت شاہ نے 11 مارچ کو یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ گوا اور منی پور میں بھی سرکار بنائیں گے اور یہ بات انھوں نے اس وقت کہی تھی جبکہ ابھی  ووٹوں کی گنتی جا ری تھی۔ بی جے پی نے اپنی گھنائونی حرکت سے ملکی کی جمہوریت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ پیسہ اور پاور کا استعمال کر کے جس طرح سے حکومت سازی کی جا رہی ہے وہ ہمارے ملک کے لئے صرف افسوسناک نہیں بلکہ ملک کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ جمہوریت کا خاتمہ صرف کانگریس کے لئے خطرناک نہیں ہے بلکہ یہ پورے ملک کے لئے خطرناک ہے۔ ملک کی جمہوریت کو بچانے کے لئے ہم میں سے ہر شخص کو اب اٹھ کھڑا ہو نا چاہئے۔ 
 

SHARE
 
انڈین نیشنل کانگریس، 24، اکبر روڈ، نئی دہلی – 110011، انڈیا، ٹیلیفون: 23019080-11-91 | فیکس: 23017047-11-91 | ای میل: connect@inc.in © 2012-2013 کل ہند کانگریس کمیٹی۔ جملہ حقوق محفوظ ۔ شرائط و ضوابط | رازداری پالیسی