نمایاں ترین

5/10/2017 12:00:00 AM

بھارتیہ جنگل راج پارٹی

جب بھی وزیراعظم کا ذکرآتا ہے تو بی جے پی کے لوگ فوراً 56 انچ کا سینہ دکھانے لگتے ہیں ۔ یہ 56 انچ کی اصطلاح کا استعمال مسٹرمودی کی طاقت کو بتانے کے لئے کیا جا تا ہے۔ لیکن گزشتہ تین سالوں میں جوکچھ ہوا ہے اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ واقعی وزیراعظم کے پاس 56 انچ کا سینہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سینے میں جان نہیں بلکہ ہوا بھری ہوئی ہے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور امن پسندی شہریوں کی موت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مسٹر مودی کے پاس کوئی ایسا سینہ نہیں ہے جسے وہ بزعم خود 56 انچ کا سینہ بتاتے ہیں۔

 
جب سے مسٹر مودی نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا ہے تب سے اب تک جموں و کشمیر میں جنگ بندی کی   1300خلاف ورزیاں اور170 دہشت گردانہ واقعات  ہو چکے ہیں۔  وزیراعظم کو اس بات کے لئے کافی فرصت ہے کہ وہ ہر قسم کے معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کریں، لیکن وہ ملکی اور قومی تحفظ کے معاملات پر ہمشہ چپی سادھ لیتے ہیں ۔  جب سے مسٹر مودی نے وزارت دفاع کو گوا ریاست کے لئے قربان کیا ہے تب سے اب تک ہندوستان کوئی مستقل وزیردفاع نہیں ملا ہے۔

اگر ہم گجرات ، اروناچل پر دیش، اور کشمیر کے حا لات کو دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ ملک میں چاروں طرف جنگل راج قائم ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اب در حقیقت بھارتیہ جنگل راج پارٹی ہو چکی۔ آخر ملک میں اس افرا تفری کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی ہمارے افسران کو کام کرنے نہیں دیتی۔ وہ ان کے کام میں رخنہ اندازی کرتی ہے۔ چاہے وہ عصمت دری کے واقعات ہوں، اور دیلتا میگھوال کی موت کا واقعہ ہو، یا آندھرا پردیش میں دلتوں پر حملے کا واقعہ، بی جے پی نے ان تمام واقعات میں اس بات کو یقینی بنا یا ہے کہ کسی معاملہ میں کوئی تفتیش نہ ہو۔

راجستھان میں بی جے پی کے لیڈران نے پولیس چوکی پرحملہ کیا۔ وہ جانتے تھےکہ وہ ایسا کرنے کے لئے آزاد ہیں اورانھیں کچھ بھی نہیں ہوگا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ کہانی کسی ایک ریاست کی نہیں ہے بلکہ ان تمام ریاستوں کی ہے جہاں بی جے پی حکومت میں ہے۔

 
انڈین نیشنل کانگریس، 24، اکبر روڈ، نئی دہلی – 110011، انڈیا، ٹیلیفون: 23019080-11-91 | فیکس: 23017047-11-91 | ای میل: connect@inc.in © 2012-2013 کل ہند کانگریس کمیٹی۔ جملہ حقوق محفوظ ۔ شرائط و ضوابط | رازداری پالیسی