نمایاں ترین

6/1/2017 12:00:00 AM

راہل گاندھی تلنگانہ کے سنگاریڈی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے



تلنگانہ کے لوگوں نے تلنگانہ ریاست بناے کے لئے ایک خواب دیکھا تھا۔ انھوں نے یہ امید کی تھی کہ جب وہ تلنگانہ کوایک الگ ریاست بنا لیں گے تو ریاست کے معاملات میں ان کی بات بھی سنی جائے گی۔ تلنگانہ تحریک کی قیادت طلبا اور نوجوانوں نے کی تھی۔ انھوں نے یہ سوچا تھا کہ جب وہ تلنگانہ کوایک ریاست بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے تو تعصب ، تنگ نظری اور جن مواقع سے اب تک انھیں محروم رکھا گیا ہے وہ ماضی کی بات ہو جائے گی۔
 
تلنگانہ کے سنگا ریڈی میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جناب گاندھی نے عوان کو بتا یا کہ کانگریس پارٹی اور اس کی صدرمحترمہ سونیا گاندھی نے تلنگانہ کے عوام کی امنگوں اور تفکرات کو سمجھتے ہوئے تلنگانہ کو ایک علیحدہ ریاست بنا نے کا اعلان کیا۔ جناب راہل گاندھی نے عوام سے پوچھا کہ  ریاست کو بہت کام کی ضرورت ہے۔ لیکن آپ ہمیں بتائیں کہ کیا گزشتہ 3 سالوں میں کوئی کام ہوا ہے؟ کیا موجودہ حکومت نےعوامی توقعات کی تکمیل کے لئے کوئی خاطر خواہ قدم اٹھا یا ہے؟
 
جناب راہل گاندھی نے کہا کہ تلنگانہ سچائی کی سر زمین ہے۔  یہ مخدوم پیر کی سر زمین ہے۔ میں مخدوم پیر کے لفظوں میں مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے: حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو؛ چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو۔ کانگریس نائب صدر نےتلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے وزیراعلیٰ سے پوچھا کہ وہ کس کے لئے حکومت چلا رہے ہیں؟ کیا وہ ریاست کے جوانوں کے لئے کام کر رہے ہیں ؟ کیا وہ خواتین کے لئے کام کر رہے ہیں؟ کیا وہ پسماندہ طبقات کے لئے کام کر رہے ہیں یا زمین مافیا اور کانٹریکٹرس کےلئے کام کر رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ یہ حکومت مٹھی بھر لوگوں کی خواہشات کی تکمیل کے لئے کام کررہی ہے۔

جناب راہل گاندھی نے بتا یا کہ گزشتہ تین سالوں میں 2855 کسانوں نے خود کشی کی ہے اور حد تو یہ ہے کہ خود وزیراعلیٰ کے انتخابی حلقے میں 100 کسانوں نے خود کشی کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ قرضہ معاف کرنا صرف قرضہ معاف کرنا نہیں ہوتا بلکہ کسانوں کے لئے بینکوں کا دروازہ کھولنا ہوتا ہے۔ جب ہم نے کسانوں کے لئے 70 ہزار کروڑ کا قرض معاف کیا تھا تو بس ایک ہی جست میں کیا تھا۔
 
جناب راہل گاندھی نے مسٹر مودی اور مسٹر کے چندر شیکھر رائو کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ جھوٹے وعدے میں مہارت رکھتے ہیں۔ پی ایم مودی نے دوکروڑ ملازمت ہر سال فراہم کرانے کی بات کی تھی اور آج یہ بات سب پر ظاہر ہے کہ یہ سب سے بڑا جھوٹ تھا۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ رائو نے وعدہ کیا تھا کہ ہر فیملی کو ایک ملازمت دیں گے یہ بھی جھوٹ نکلا ۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے بر عکس کانگریس کام کرنے میں یقین رکھتی ہے۔ یہ جھوٹ بولنے اور جھوٹے وعدے میں یقین نہیں رکھتی۔

جناب راہل گاندھی نے کہا کہ جس طرح آنجہانی اندرا گاندھی نے اپنے حلقے میں 1 لاکھ جوانوں کو جاب فراہم کرایا تھا ہم بھی میڈ ان تلنگانہ کے ذریعہ ایسا کرکے دکھائیں گے اور ہر حال میں جوانوں کو ملازمت فراہم کرائیں گے۔

بی جے پی بدعنوانی کے خلاف لڑائی کی بات کرتی ہے۔ لیکن یہ کانگریس ہے جس نے اراضی تحویل میں ہو رہے گھپلے کو روکنے کے لئےاراضی تحویل بل متعارف کرایا۔ بی جے پی نے اس میں ترمیم کرکے کرپشن کو بڑھا وا دینے کی کوشش کی۔ جناب راہل گاندھی نے کہا کہ اراضی تحویل بل میں بی جے پی نے تین مرتبی چھیڑ چھاڑ کر نے کی کوشش کی لیکن تینوں مرتبہ کانگریس نےان کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ بات یہ ہے کہ جس طرح مودی کسانوں سے زمین چھین رہے ہیں ٹھیک اسی طرح رائو بھی کسانوں سے زمین جبراً تحویل میں لے رہے ہیں۔

جناب راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس پارٹی میں کسی ایک شخص کی حکومت نہیں ہوتی بلکہ یہ سب کی حکومت ہوتی ہے۔ کانگریس پارٹی تمام ایم ایل اے۔ ایم پی اور منتخب ارکان کو ساتھ لے کرحکومت چلا تی ہے۔
 
وزیراعلیٰ کےسی رائو کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کانگریس نائب صدر نے کہا کہ جس شخص کو ریاست کے عوام نے منتخب کیا تھا کم سے کم اسے ریاست کے لئے صحیح راستہ منتخب کرنا چاہئے تھا۔ لیکن ما یوسی کی بات یہ ہے کہ انھوں نے ریاست کے لئے غلط راستے کا انتخاب کیا۔ اور مزید ما یوس کن بات یہ ہے کہ انھیں عوام کے دکھ درد کا کوئی احساس نہیں ہے۔

 
انڈین نیشنل کانگریس، 24، اکبر روڈ، نئی دہلی – 110011، انڈیا، ٹیلیفون: 23019080-11-91 | فیکس: 23017047-11-91 | ای میل: connect@inc.in © 2012-2013 کل ہند کانگریس کمیٹی۔ جملہ حقوق محفوظ ۔ شرائط و ضوابط | رازداری پالیسی