نمایاں ترین

8/8/2017 12:00:00 AM

ہم یا توآزاد ہوں گے یا پھراس جدوجہد میں جان کی بازی لگا دیں گے



ستیہ گرہ میں جھوٹ اوردھوکہ دیہی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ جھوٹ اور دھوکہ دیہی آج دنیا کا تعاقب کر رہی ہے۔ ہم اس صورت حال کو تماشائی بن کر نہیں دیکھ سکتے۔ میں نے پورے ہندوستان کا دورہ کیا ہے اور شاید ہم سے زیادہ ہندوستان کو کسی نے نہیں دیکھا ہوگا۔ میں نے لاکھوں بے آواز لوگوں کو دیکھا ہے جو چاہتے ہیں کہ ہم اور آپ ان کی آواز بنیں اور میں اپنے آپ کو ان کا حصہ سمجھتا ہوں۔ میں نے ان کی آنکھوں میں اعتماد دیکھا ہے۔ اس اعتماد کے اندر میں اور زیادہ طاقت پیدا کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ اس لائق ہو سکیں کہ اس جھوٹے سامراج کو اکھاڑ پھینکیں۔ ہر چند کہ یہ سامراج بہت عظیم معلوم پڑتا ہے لیکن ہمارے عزائم اسے توڑ دیں گے۔ ہم اس اہم وقت میں کس طرح تنہائی میں بیٹھےرہ سکتے ہیں اوراپنی روشنی کو چھپاسکتے ہیں جبکہ قوم کو اس کی شدید ضرورت ہے۔ کیا ہم جاپانیوں سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ تھوڑا اور ٹھہر جائیں؟ اگرآج ہم خاموش تماشائی بن کربیٹھ گئے تو خدا ہمیں اس جرم کے لئے معاف نہیں کرے گا۔ اگرآج حالات الگ ہوتے تو میں آپ سے انتظار کرنے کے لئے کہتا لیکن آج حالات بالکل برداشت سے باہر ہو چکے ہیں اور اب کانگریس کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں بچا ہے۔

ہندوستان چھوڑو تحریک کا آغاز آج نہیں ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنے تمام اختیارات ہمارے سپرد کر دیئے ہیں۔ اب میں وائے سرائے کا اتنظار کر رہا ہوں اور ان کے سامنے آپ کے تمام مطالبات رکھوں گا۔ اس عمل میں دو تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اس دوران آپ کیا کریں گے؟ اس دوران آپ کا کیا پروگرام ہے جس میں آپ تمام لوگ شریک ہو سکتے ہیں ؟ چودہ نکاتی تعمیری پروگرام آپ کے سامنے ہے جسے آپ آگے بڑھا سکتے ہیں۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ آپ اور کیا کر سکتے ہیں؟ میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ آپ میں ہرشخص آج سے اپنے آپ کو آزاد تصور کرے اوراس طرح عمل کرے کہ معلوم ہو کہ وہ واقعتاً آزاد ہے۔
 
ایسا نہیں ہے کہ میں آپ کو یہ صلاح دے رہا ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہی آزادی کا ماخذ ہے۔ غلامی کی بندھنیں ٹوٹ جاتی ہیں جبکہ آپ آزادانہ طور پر عمل کر سکیں۔  آپ کا عمل سامراج کو یہ بتا ئے گا کہ اب تک میں آپ کا غلام تھا لیکن اب میں آپ کا غلام نہیں ہوں۔ آپ مجھے مار سکتے ہیں اگر آپ چاہیں، تاہم اگر آپ مجھے زندہ رکھیں تو میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنی بندشیں ہم سے ہٹا لیں۔ اگرآپ ہمیں آزاد سمجھیں تو ہم آپ سے اور کچھ نہیں چاہتے۔ آپ مجھے کھلاتے پلاتے ہیں جبکہ ہم خود ہی مزدوری کرکے کمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم کھانے پینے کے لئے خدا کی جگہ آپ پر بھروسہ کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن خدا نے آج میرے دلوں میں آزادی کی خواہش جگا دی ہے اورآج سے میں آزاد ہوں۔
 
جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ مجھ پریہ بھروسہ کر سکتے ہیں کہ ہم لوگ اس معاملہ میں وائے سرائے یا کسی وزیر سے کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ ہم آزادی سے کم پرکوئی چیز قبول نہیں کر سکتے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ہماری تحریکوں کی مخالفت کریں لیکن ہم نے صاف کر دیا ہے کہ ہم آزادی سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گے۔

یہاں ایک منتر ہے۔ ایک چھوٹا سا منتر۔ آپ اسے دل میں بیٹھا سکتے ہیں اور اسےآپ کی سانسوں میں جھلکنا چاہئے۔ ہمارا منتر ہے: " کرو یا مرو"۔ ہم یا تو ملک کو آزاد کرائیں گے یا اس جدو جہد میں اپنی جان کی بازی لگا دیں گے۔ ہم دائمی غلامی دیکھنے کے لئے ہر گز تیار نہیں ہو سکتے۔ ہر سچے کانگریسی مرد یا خواتین کو اس تحریک میں شامل ہونا ہے۔ انھیں اس عزم کے ساتھ اس تحریک میں شامل ہونا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اس غلامی کو بر داشت نہیں کر سکتے۔ آج آپ کا یہی عہد ہونا چاہئے۔

ہندوستان چھوڑو تحریک کی تقریرسے ماخوذ چند اقتباسات ۔ مہاتما گاندھی نے آے آئی سی سی کے اجلاس، ممبئی میں 8 اگست 1942 کو یہ تقریر کی تھی۔

 
انڈین نیشنل کانگریس، 24، اکبر روڈ، نئی دہلی – 110011، انڈیا، ٹیلیفون: 23019080-11-91 | فیکس: 23017047-11-91 | ای میل: connect@inc.in © 2012-2013 کل ہند کانگریس کمیٹی۔ جملہ حقوق محفوظ ۔ شرائط و ضوابط | رازداری پالیسی