نمایاں ترین

8/8/2017 12:00:00 AM

کیا بینکنگ ریگولیشن (ترمیم شدہ ) بل 2017 بی جے پی کے حامی صنعت کاروں کوفائدہ پہنچانے کے لئے ہے؟



قرض دینے اورنہ دینے کا فیصلہ کرنا بینک کا معاملہ ہے۔ جب قرض دینے والا ذمہ دار ہو تواسے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسے کیا نقصان ہوگا اور وہ کس طرح قرض کی رقم کو واپس حاصل کرسکتا ہے۔ ہرقرض ایک رسک ہوتا ہے جسے الگ الگ کیس کے حساب سے دیکھنا پڑتا ہے۔ قرض کے تمام معاملات کو ایک ہی اندازمیں نہیں دیکھا جا سکتا جیسا کہ بی جے پی چاہتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ بینکوں کی اس بات کے لئےحوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہئے کہ ٹیکس دہندگان کے پیسے کے بل پرانھیں ڈوبنے سے بچا لیا جائے گا۔

بی جے پی کی بینکنگ ترمیم شدہ بل 2017 مرکزی حکومت کو اس بت کا موقع فراہم کراتی ہے کہ وہ ریزرو بینک آف انڈیا کو اس بات کی ہدایت دے کہ وہ بینکوں کے انفرادی قرض کے معاملات میں مداخلت کرے۔ اس قسم کی مداخلت دونوں قسم کی صورت حال میں ہوسکتی ہے جبکہ بینکوں کو قرض کی واپسی کے لئے رقم اور مدت واپسی میں تبدیلی کر نی پڑے یا پر دیفالٹ کی صورت پیدا ہو جائے۔

حکومت کی مداخلت سے اس بات کا اندیشہ ہے کہ  آربی آئی گائڈ لائنس کی اپنی آزادی کو کھو دے گی۔ ایسا مانا جا تا ہے کہ آر بی آئی کی گائڈ لائنس عوامی مفاد اور بینکنگ پالسی کے مفاد میں ہوتی ہے۔ آر بی آئی کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ کمپنیوں کو یہ بتائے کہ اسے کس طرح رقم کی واپسی کے لئےواپسی کی مدت اور قسط میں تبدیلی کرنی چاہئے یا پھر یہ کہ آر بی آئی کمپنیوں کے اثاے کی نیلامی کرائے تاکہ بینک کو پیسے واپس دلائے جا سکیں۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جو اتھاریٹی طریقہ کار وضع کر رہی ہو اسے اس اتھاریٹی سے مختلف ہونا چاہئے جو اسے عملی جامہ پہنا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس پر کوئی توجہ ہی نہیں دی۔

بینکنگ ریگولیشن ترمیم شدہ بل 2017 میں اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ مرکزی حکومت اس معاملہ میں منتخب انداز میں کاروائی کرے۔ بہت ممکن ہے کہ وہ مداخلت سے پہلے یہ دیکھے کہ جس کمپنی کے لئے فیصلہ لیا جا رہا ہے وہ اس کی پارٹی کا مالی تعاون کرتی ہے یا نہیں۔ مودی جی کے بارے میں یہ کہا جا تا ہے کہ وہ دو صنعت کاروں کو کھلے عام سپورٹ کرتے ہیں۔ اب معاملہ یہ بھی ہے کہ جو کمپنیاں مودی جی کے چہیتے صنعت کاروں کی حلیف ہیں ان کے ساتھ کیا برتائو کیا جائے گا؟ اہم بات یہ ہے کہ اس معاملہ میں نہ تو حکومت کو مداخلت کرنی چاہئے اور نہ ہی یہ آر بی آئی کا کام ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس راجیہ سبھا کے ارکان  سے یہ درخواست کرتی ہے کہ وہ ہرحال میں بینکنگ ریگولیشن ترمیم شدہ بل 2017 کی مخالفت کریں اور اسے پاس نہ ہونے دیں۔

 
انڈین نیشنل کانگریس، 24، اکبر روڈ، نئی دہلی – 110011، انڈیا، ٹیلیفون: 23019080-11-91 | فیکس: 23017047-11-91 | ای میل: connect@inc.in © 2012-2013 کل ہند کانگریس کمیٹی۔ جملہ حقوق محفوظ ۔ شرائط و ضوابط | رازداری پالیسی