نمایاں ترین

9/8/2017 12:00:00 AM

سنگھرش سبھا : فد نویس کی بنائی ہوئی قبر سے کسانوں کو بچانے کے لئے ایک ریلی


آزادی کے بعد ہندوستان کی تعمیر کا کام دو بنیادوں پر شروع ہوا تھا۔ زراعت پر مبنی معیشت اور صنعت کاری۔ پانچ سالہ منصوبے میں اس کی پوری وضاحت ہے۔ اس کے پیچھے منشا یہ تھی کہ دیہی علاقوں میں ہونے والی پروڈکشن کے لئے بہترقیمت دستیاب کرائی جا سکے اور امپورٹ کو کم سے کم کیا جا سکے۔


دیہی معیشت مہاتما گاندھی جواہرلال نہرو اور لال بہادر شاتری کی پالیسی کا اصل جز رہی ہے۔ ان کے نظریات کی بنیاد پر زراعتی معیشت کو فروغ دیا گیا۔ ہندوستان کو 1960 میں خوراک کے بحران کا سامنا تھا لیکن 1070 میں یہ معجزاتی طور پر سبز انقلاب کا علمبردار بن گیا۔ لیکن وہ دن اب گزر چکے ہیں ۔ ملک کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا جب نیشنل کرائم ریکارڈ بیو رو نے بتا یا کہ مہاراشٹرا میں کسانوں کی خود کشی کے واقعات میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔


مہاراشٹر کی ریاست میں 78 فیصد خشک سالی سے متاثرہ اضلاع ہیں۔ امراوتی ، ویدربھا، مراٹھ واڑا، خان دیش، کے علاقوں میں اکثر قدرتی آفات آتے رہتے ہیں، مثلا خشک سالی اور بغیر موسم بارش وغیرہ ، جس کی وجہ سے کسانوں کو تباہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قدرتی آفات اپنی جگہ ۔ موجودہ بی جے پی حکومت کسانوں کے مسائل کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے اور کسی بھی قسم کی مدد دینے سے انکار کر رہی ہے جس کی وجہ سے مسائل اور بھی تشویشناک ہو چکے ہیں۔


پہلے تو نوٹ بندی نے کسانوں کو مارا پھر فوراً جی ایس ٹی نافذ کر دیا گیا جس کی وجہ سے کسانوں کی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی جبکہ بی جے پی نے اپنے منشور میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ کسانوں کے اوپر سے مالی بوجھ کم کرے گی اور انھیں حکومت کی طرف سے مالی مراعات مہا کرائے گی۔


تاہم آج صورت حال یہ ہے کہ فدنویس کا مہاراشٹر کسانوں کی قبر گاہ بن چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک سال میں یعنی 2015 میں مراٹھواڑہ کے خطہ میں تقریباً 3228 کسانوں نے خود کشی کر لی۔


مودی کے دور حکومت میں بہت سے کارپوریٹس کے قرض معاف کئے گئے۔ 2013- 2014 میں قرض وصولنے کی شرح 22 فیصد تھی جو2016 - 2017 میں گر کر10 فیصد پر آگئی۔ 2014 سے بہت سے بینک لون کو بینکوں نے معاف کیا ہے۔ انڈین اکسپریس کی رپورٹ بتاتی ہے 2016- 2017 کے مالی سال کے پہلے مرحلے میں مودی حکومت میں سر کاری بینکوں نے کارپوریٹس کے 81, 683 کروڑ قرض معاف کئے۔ جبکہ 2014- 2015 میں 49, 018 کروڑ قرض معاف کئے گئے تھے۔ اور 2015-2016 میں 57, 586 کروڑ معاف کئے گئے۔ سب کو جمع کر دیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ مودی کی پوری مدت کار میں اب تک 1.88 لاکھ کروڑ قرض معاف کئے گئے ہیں۔ کارپوریٹس کے قرض کی معافی پر مودی اور فد نویس چہکتے پھرتے ہیں لیکن کسانوں کی موت پر انھیں افسوس نہیں ہوتا۔


نوٹ بندی کی وجہ سے پورے ملک میں ایک قسم کی افرا تفری پھیل گئی ہے۔ انڈین اکپریس کی رہورٹ بتاتی ہے نوٹ بندی کی وجہ سے 104 لوگوں کی موت ہوئی۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے کسانوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے اور کسانوں کی مالی حالت تباہ ہو کر رہ گئی ہے۔ دوسری ریاستوں کی طرح مہاراشٹرا کے کسان بھی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی مار جھیل رہے ہیں۔


جی ایس ٹی کی وجہ سے چھوٹے صنعت کاروں اور تاجروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چھوٹے پارٹس بنانے والی چھوٹی کمپنیاں بند ہو رہی ہیں یا پھر انھوں نے اپنے پروڈکشن کو کم کردیا ہے تاکہ وہ حالات کا بہتر اندازہ کر سکیں کیوں کہ وہ 18 فیصد سے 28 فیصد تک ٹیکس چکانے کی حالت میں نہیں ہیں۔


فدنویس کی کسانوں کے تئیں سرد مہری اور مودی کی نوٹ بندی اوراس پرجی ایس ٹی کا نفاذ ۔ یہ وہ اقدام ہیں جو مہاراشٹر کے کسانوں، تاجروں اور صنعت کاروں کو پریشان کررہے ہیں۔ اب لوگوں کی ناراضگی بی جے پی حکومت کے تئیں بڑھتی جا رہی ہے ۔ لوگ اپنے مطالبات کی حمایت میں سڑکوں پر اترنے لگے ہیں۔ کانگریس کی سنگھرش سبھا اسی احتجاجی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔


اس سبھا کے ذریعہ حکومت مہاراشٹرا کو مجبورکیا جائے گا کہ وہ کسانوں کا قرض معاف کرے اورانھیں کم از کم سپورٹ اسکیم کا فائدہ پہنچائے۔ اس سبھا کا سب سے اہم مطالبہ یہ ہوگا کہ یو پی اے حکومت میں لائی گئی سوامی ناتھن کمیشن کی سفارش کا نفاذ ہو جس میں کسانوں کو لاگت پر 50 فیصد منافع کے ساتھ قرض کی معافی بھی شامل ہے۔


اور بلا شبہ اس مرتبہ کسان تنہا نہیں ہیں۔

 
انڈین نیشنل کانگریس، 24، اکبر روڈ، نئی دہلی – 110011، انڈیا، ٹیلیفون: 23019080-11-91 | فیکس: 23017047-11-91 | ای میل: connect@inc.in © 2012-2013 کل ہند کانگریس کمیٹی۔ جملہ حقوق محفوظ ۔ شرائط و ضوابط | رازداری پالیسی