نمایاں ترین

9/9/2017 12:00:00 AM

ہندوستانی ریلوے کی تباہی کا سبب ؟



7 ستمبر کوجب اس مضمون کو لکھنا شروع کیا گیا تواس دن ٹرین کا صرف ایک حادثہ ہوا تھا۔ لیکن نو گھنٹے گزرنے کے ساتھ ہی تین ٹرینیں پٹری سےاترگئیں اورایک حادثہ ہوتے ہوتے بچ گیا۔ خیریہ ہے کہ ان حادثات میں کو جانی نقصان نہیں ہوا۔


لیکن جس تیزی سے حادثات ہو رہے ہیں اس سے کسی کو بھی یہ تجسس ہو سکتا ہے کہ آخر ہندوستانی ریلوے میں کیا چل رہا ہے؟ آخر ہماری ریلوے کی حالت اتنی ابتر کیوں ہو گئی ہے؟ کیا کوئی گہری سازش رچی جا رہی ہے؟ کیا یہ سب غفلت کی وجہ سے ہورہا ہے؟ کیا واقعاتاً یہ دہشت گردی کے واقعات ہیں جیسا کہ حکومت ہمیں ہرحادثے کے بعد با ور کراتی رہتی ہے۔
کھلے ذہن کے ساتھ اس معاملہ کا جائزہ لیں ۔ اگراعدادو شمار پر غور کریں تو چیزیں ایک حد تک واضح ہو جائیں گی۔ یہاں کچھ اعدادو شمار پیش کئے جاتے ہیں۔


ریلوے کوامکانی طور پر ہر سال 4500 کلو میٹر ریلوے لائن کو بدلنا ہوتا ہے لیکن یہ نشانہ پورا نہیں ہوتا۔ پچھلے سال 5,000 کلومیٹرریل پٹری کو تبدیل ہونا تھا لیکن صرف 2,700 کلو میٹر ٹریک کو ہی تبدیل کیا گیا۔ ایسا اس لئے ہوا کیوں کہ حکومت نے ٹریک بدلنے سے متعلق بجٹ میں کٹوتی کر دی ہے۔ مزید یہ کہ 2015 کے وھائٹ پیپرکے مطابق 4 فیصد ہندوستانی ریلوے 1,219 لائن سیکشن کو 100 فیصد سے زیادہ استعمال کیا گیا۔


تحقیق کے مطابق 200-01  سے  2015-16 کے درمیان ڈیلی پسنجر ٹرینوں میں  56فیصد کا اضافہ ہوا۔ اسی دوران مال بردار ٹرینوں کی تعداد میں 59 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا لیکن نئی پٹریوں کو بچھانے کا کام صرف 12 فیصد ہی ہوا۔ ٹرین حادثات کا اصل سبب یہیں ہے۔ پٹری کی دیکھ بھال نہیں ہونا حادثے کا سبب بن رہا ہے۔


جیسا کہ ہم سن رہے ہیں کہ حکومت تمام محکمات میں چھٹنی کر رہی ہےایسا اس نے محکمہ ریلوے کے ساتھ بھی کررکھا ہے۔ بجٹ میں کمی کرنا ایک بات ہے لیکن تحفظ سے متعلق بجٹ میں کمی ایک احمقانہ عمل ہے۔ کیا حکومت اتنی کوتاہ نظری کے ساتھ عوام کو تحفظ فراہم کرا سکتی ہے؟ بلا شبہ حکومت عوامی زندگی کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور ملک کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔
حکومت نے علیحدہ ریلوے بجٹ کا بندو بست بھی ختم کردیا ہے۔ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ بجٹ کے دوران ریلوے پربحث ہوتی تھی توساری کمیاں سامنے آجاتی تھیں۔ لیکن اب اس کا کوئی موقع نہیں ہوتا۔ اب صرف ایک یا دو منٹ ہی ریلوے پر بات ہوتی ہے۔ اس طرح حکومت اپنی نا اہلی کو چھپا رہی ہے۔ ایک ایسی حکومت جو بہت زیادہ شفافیت کی بات کرتی ہے وہ انسانی جانوں کے ساتھ  کس طرح کھلواڑ کر رہی ہے ہماری ریلوے اس کی ایک مثال ہے۔


راجیہ سبھا میں 31 مارچ 2017 اور اگست 2017 کو پیش کئے گئے اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ڈی ریلمینٹ سے متعلق حادثات میں ایک دہائی کے لحاظ سے  2016-17 میں سب سے زیادہ جانیں گئی ہیں۔
وزارت برائے ریل کے مطابق ہندوستانی ریلوے میں انسانی وسائل کی سخت قلت ہے۔ یکم اپریل تک کل 124,201 اسامیوں میں 16 فیصد اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ریلوے محکمہ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اگرا یسا نہیں کیا گیا تو ریل حادثات کے پیچھے خارجی ہینڈ کی بات بہت زیادہ چلنے والی نہیں ہے۔

 
انڈین نیشنل کانگریس، 24، اکبر روڈ، نئی دہلی – 110011، انڈیا، ٹیلیفون: 23019080-11-91 | فیکس: 23017047-11-91 | ای میل: connect@inc.in © 2012-2013 کل ہند کانگریس کمیٹی۔ جملہ حقوق محفوظ ۔ شرائط و ضوابط | رازداری پالیسی