نمایاں ترین

9/9/2017 12:00:00 AM

نوٹ بندی ایک یاد گاری نادانی ہے



مسٹرمودی نے نوٹ بندی کو ایک حوصلہ افزا اورتاریخی فیصلہ بتا یا تھا اوراب یہ جگ ظاہر ہوگیا ہے کہ یہ ایک نادانی بھرا یادگاری فیصلہ تھا۔


نہ صرف یہ کہ آربی آئی کے اعدادو شمار نے یہ ثابت کیا کہ مودی نے نوٹ بندی کے ذریعہ ملک کی معیشت کو شدید ضرب پہنچا یا بلکہ اس کے ساتھ ہی آر بی آئی کے سابق چیف راگھورام راجن نے اس بات کا انکشاف کیا کہ حکومت نے جن مقاصد کے حصول کی بات کی تھی ان میں کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوا۔ صحیح بات یہ ہے کہ مسٹر مودی کے اس فیصلہ کا معیشت کی بہتری سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔
آربی آئی کے اعدادو شماربتاتے ہیں کہ 99 فیصد چلن سے باہر کئے گئے نوٹ بینکوں میں واپس آگئے ۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بد عنوان لوگوں نے اپنے نوٹ بہ آسانی بدل لئے اس طرح حکومت بلیک منی پرقابو پانے میں ناکام ہو گئی۔ دوسری بات یہ ہے کہ بلیک منی برائے نام ہی تھی اورحکومت نے اپنی نادانی سے غلط اندازہ کر لیا۔


اس کے ساتھ ہی آربی آئی کو 2016- 2017 میں نئے نوٹ چھاپنے پرزیادہ خرچ کرنا پڑا۔ اعدادو شمارکے مطابق 79.65  بلین نوٹ شائع کئے گئے جبکہ 2015- 2016 میں 34.2  بلین نوٹ ہی شائع کئے گئے تھے۔ نیتی آیوگ کے رکن بی بیک دیورائے نے کہا تھا کہ کل نقلی نوٹ 2000 کروڑ تھے اور یہ توقع کی گئی تھی کہ نوٹ بندی سے اس پر قابو پا نے میں مدد ملے گی لیکن جونقلی نوٹ بر آمد ہوئے وہ محض 41 کروڑہی تھے۔


مسٹرمودی نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ نکسلواد ختم ہو جائے گا لیکن حکومت یہاں بھی ناکام نظرآئی۔ کیش کی قلت کی وجہ سے 8 ملین ملازمین کو تنخواہ نہیں ملی اورایک سو سے زیادہ لوگ اس نوٹ بدلنے کے لئے لائن میں لگ کر اورکہیں اے ٹی ایم کے سامنے کھڑے ہوکرجان گنوا نے پر مجبور ہوئے۔
ٹرانسپورٹیشن کو سب سے بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔  800, 000 ٹرک مالکان کوکیش کی قلت کا سامنا کرنا پڑا


اور تقریباً ٹرک ملک بھر میں 400,000 ہائیوے پر پھنس کر رہ گئے۔
دوسرا شعبہ جو نوٹ بندی سے بہت زیادہ متاثر ہوا وہ زراعتی شعبہ تھا۔ بازارمیں پیسہ کی قلت سے زراعتی اشیا کی قیمتیں گھٹ گئیں اورکسانوں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ گجرات، مظفر نگر اور امرتسر میں کسانوں کے احتجاج سے اس بات کا ثبوت مل جا تا ہے کہ کسانوں کو نوٹ بندی کی بھاری قیمت چکا نی پڑی۔


حکومت نے نوٹ بندی کا منصوبہ بھی نہایت احمقانہ انداز میں بنا یا تھا ۔ خریف کی فصل کی کٹائی کے وقت ہی نوٹ بندی کر دی گئی اور ربی کی فصل کی بنائی کے وقت نوٹ بندی کا وقت طے کیا گیا۔ حالیہ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ زراعتی اشیا کی خرید میں 25 سے 50 فیصد تک کی کمی آگئی جس کی وجہ سے کسانوں کو اپنی پیداوار کو ضائع کرنا پڑا۔


آربی آئی کو ہزاراورپانچ سوکے نوٹ کوچھاپنےکے لئے نوٹ - پیپرامپورٹ کرنے کی ضرورت پڑی اوراسےاس پر تقریباً 577 کروڑ روپے خرچ کرنا پڑا۔ نوٹ بندی کے فیصلہ سے انفارمل معیشت اس طرح تباہ ہوئی کہ عالمی بینک کو اس پراپنا تبصرہ جاری کرنا پڑا۔ ملک کی معیشت آخری تہائی میں گر کر 5.7 کی شرح پر پہنچ گئی جب کہ گزشتہ تہائی میں یہ 6.1 فیصد کی شرح نمو پر تھی۔
اگرمسٹر مودی نے سابق وزیر اعظم جناب ڈاکٹر منموہن سنگھ سے صلاح لی ہوتی تو وہ  ضرور انھیں ایسا کرنے سے منع کرتے ۔ ںوٹ بندی کے بعد کے دنوں میں ماہر معاشیات اور سیاستداں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ مودی کے اس فیصلہ سے ملک کی جی ڈی پی میں 2 فیصد کی گراوٹ ہوگی اوران کی پیشن گوئی صحیح ثابت ہوئی۔ ای کامرس کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کمپنیوں میں کیش ڈیلیوری پیمنٹ میں 30 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی۔


کانگریس نائب صدرجناب راہل گاندھی نے نوٹ بندی کی سخت مخالفت کی تھی اوراسے ایک احمقانہ فیصلہ بتا یا تھا۔ انھوں نے نوٹ بندی کو غریبوں پرمسٹر مودی کا سرجیکل اسٹرائک بتا یا تھا۔  جناب گاندھی نے اسے ایک بڑے گھوٹالہ سے تعبیر کیا تھا اوراب ان کی بات صحیح ثابت ہورہی ہے۔
اب مودی حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ بھلے ہی نوٹ بندی سے معیشت کو نقصان پہنچا ہے لیکن حکومت اس سے دوسرے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

 
انڈین نیشنل کانگریس، 24، اکبر روڈ، نئی دہلی – 110011، انڈیا، ٹیلیفون: 23019080-11-91 | فیکس: 23017047-11-91 | ای میل: connect@inc.in © 2012-2013 کل ہند کانگریس کمیٹی۔ جملہ حقوق محفوظ ۔ شرائط و ضوابط | رازداری پالیسی