نمایاں ترین

9/30/2017 12:00:00 AM

حقیقی رام راج کو دوبارہ حاصل کریں



آرایس ایس کے ممبر ناتھو رام گوڈ سے نے جب مہا تما گاندھی کو گولی ماری  تو جو آخری الفاظ  گاندھی جی کی  زبان پر تھے وہ رام کا نام تھا۔  موہن داس کرم چند گاندھی رام کا نام برائی پراچھائی کی جیت کے لئے لیا کرتے تھے۔ ان کے سامنے رام کا نام کو سیاسی نام نہیں تھا بلکہ ایک روحانی نام تھا جس سے انسان کے اندر روحانیت پیدا ہوتی تھی اور وہ برائی کے خلاف اٹھ کھڑا ہو تا تھا۔ لیکن ان دنوں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ گاندھی جی کے قاتلوں نے رام کا نام لینا شروع کردیا ہے اور وہ  رام کے نام پر قسم کی بدکاری کو انجام  دے رہے ہیں۔

آج صورت حال یہ ہے کہ ملک بھر میں تمام بڑے اور چھوٹے اداروں میں آر ایس ایس کے لوگوں کو بٹھا یا جا رہا ہے صدر کے عہدے سے لے کر یونیور سٹیوں میں چانسلر اور وائس چانسلروں کے عہدوں پر ار ایس ایس کے لوگوں کو بٹھا یا جا رہا ہے۔ اس دسہرہ میں ملک کو یہ دیکھنا ہے کہ وہ حقیقی رام راج کی طرف بڑھیں گے یا آر ایس ایس کے راج کی طرف۔

رام راج مہاتما گاندھی سوراج کے لئے جا نا جا تا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں تھا کہ برطانوی حکومت کو ملک سے نکال باہر کیا جائے۔ مودی حکومت میں بہت سے لوگ رام کو آئکون سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کا طریقہ کار رام راج سے ذرا بھی میل نہیں کھا تا۔ رام کے نام پر لوگوں کو منقسم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور رام کی تعلیمات کو پراگندہ کیا جا رہا ہے۔ رام کا نظریہ سیکولرنظریہ تھا لیکن مودی حکومت اس سیکولر نظریہ کو تباہ کردینا چاہتی ہے۔ رام راج کی تعلیم آج بھی تلسی داس کے دوہوں اور رام چرت مانس میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

آج ہندوستان کا حال یہ ہے کہ مودی حکومت اپنے سیاسی مفاد کے لئے رام کے نام کا استعمال کر رہی ہے۔ آج حقیقی رام راج کو کچلاجا رہا ہے۔ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ رام راج کا مطلب ہندو راج نہیں ہوتا ان کا ماننا تھا کہ رام رحیم میں وہ کوئی فرق نہیں کرتے۔ رام کبھی شخصی طور پر اس دنیا میں رہے تھے یہ بتا نا بہت مشکل ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ رام کی تعلیمات جمہوری تعلیمات تھیں۔ رام راج میں سب کے لئے انصاف کا انتظام تھا بغیر کسی قسم کے مالی بوجھ کے۔

دسہرہ ایک موقع ہے کہ ہندوستان کے عوام ان لوگوں کوں سبق سکھائیں جو رام راج کے نام پر ظلم اور آتنک کا راج پھیلا نا چاہتے ہیں۔ اس بار راون نہیں بلکہ آر ایس ایس اور مسٹر مودی کے  نظریات کے دہن کا وقت ہے۔ کانگریس کی قیادت والی مہاگٹھ بندھن کے لئے دسہرہ ایک بڑا موقع ہے۔ رام کی تعلیمات جو امن اور بھائی چارہ سے متعلق ہیں، ان پر چل کر امید کی جاتی ہے کہ کانگریس ملک کو 2019 میں ایک بہتر حکمرانی دے گی۔ ایک ایسی حکمرانی جہاں امن و بھائی چارہ کا راج ہو  جہاں لوگ ہم آہنگی اورخوشحالی کی فضا میں سانس لے رہے ہوں۔

بلا شبہ کانگریس ایک جمہوریت پسند پارٹی ہے اورایک جمہوریت پسند پارٹی کی حیثیت سے ہم مودی مکت بھارت کی تمننا نہیں کرتے۔ ہم ایک ایسی جمہوریت پسند حکومت چاہتے ہیں جہاں سب کی آوازسنی جائے۔ ہم رام راج کو مہاتما گاندھی کے جمہوری نظریہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

 
انڈین نیشنل کانگریس، 24، اکبر روڈ، نئی دہلی – 110011، انڈیا، ٹیلیفون: 23019080-11-91 | فیکس: 23017047-11-91 | ای میل: connect@inc.in © 2012-2013 کل ہند کانگریس کمیٹی۔ جملہ حقوق محفوظ ۔ شرائط و ضوابط | رازداری پالیسی