نمایاں ترین

10/3/2017 12:00:00 AM

موچھ کا معاملہ : منظم مظالم کے خلاف دلت سڑکوں پر



سنیچر کے دن  30 ستمبر کو کھیما پرمار ُپاٹن ضلع کے باشندہ نے ایک معاملہ پولیس اسٹیشن میں درج کرا یا۔ انھوں نے شکایت کی کہ وہ اور ان کی فیملی کے تین لوگوں کو نوراتری کے آخری دن پٹیل کمیونٹی نے مارا پیٹا ۔ انھوں نے کہا کہ پٹیل کمیونٹی کے لوگ اس بات پر مشتعل ہوگئے کہ گربا میں دلت کی عورتیں بھی شامل تھیں۔ اتوار کے دن یکم اکتوبر کو ایک 21 سالہ دلت لڑکے جئیش سولنکی کو جو کہ آنند ضلع کا رہنے والا تھا ، بھیڑ نے صرف اس لئے مار دیا کیوں کہ وہ گربا دیکھنے آیا ہوا تھا۔ گجرات کے ہی گاندھی نگر ضلع میں نوجوانوں کو مارا پیٹا گیا، ان کا جرم یہ تھا کہ وہ موچھ رکھے ہوئے تھے۔ دلت نوجوانوں کا موچھ رکھنا پٹیل کمیونٹی کو پسند نہیں آیا اور وہ مشتعل ہوگئے۔

تشدد کے یہ تمام واقعات محض پانچ دنوں کے اندر ہوئے اور یہ سب اس ریاست میں  ہوا جہاں کی حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ وکاس کر رہی ہے۔ این سی آر بی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 2015 میں گجرات کے اندر دلتوں کے خلاف 1,046 مظالم کے واقعات ہوئے اورایک دوسری بی جے پی کی حکومت والی ریاست مدھیہ پر دیش میں  دلتوں کے خلاف مظالم کے 4,188 واقعات پیش آئے۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ دلتوں کو اب تک پولیس تک رسائی حاصل نہیں ہو ئی ہے۔ اعلیٰ ذات کے لوگ انھیں پولیس تک جانے سے روکتے ہیں اور انھیں پولیس تک جانے کے لئے اپنے مظالم کا نشانہ بناتے ہیں بعض اوقات پولیس بھی ان کی بات سننے سے انکار کر دیتی ہے۔ بی جے پی حکومت اعدادو شمار میں گڑ بڑی کر نے کے لئے جانی جاتی ہے ۔ معیشت کے متعلق جو اعدادو شمار حکومت پیش کر رہی ہے وہ در حقیقت اعدادو شمار کو توڑ مروڈ کر پیش کر نے کا ہی ایک عمل ہے اور بلا شبہ حکومت دلتوں کے بارے میں بھی اعدادو شمار کے ذریعہ  یہی بتانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان اعدادو شمار کو اس پس منظر میں بھی دیکھنا چاہئے کہ دلت مظالم کے خلاف بہت سی دلت تنظیمیں ملک بھر میں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔ ان میں ایک خاص بھیم آر می ہے۔ یہ بھیم آر می 2015 میں اس وقت قائم کی گئی تھی جب سہارنپور میں دلتوں پر مظالم کے واقعات ہوئے تھے۔ بی جے پی نے ایک شھوبھا یاترا نکا لا تھا۔ اس شھوبھا یاترا کا مقصد ہندو مسلم کے درمیان تفریق پیدا کرنا تھا لیکن دلتوں نے اس شوبھا یاترا کی مخالفت کی اور راجپوتوں اور دلتوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔

اس سال اگست کے مہینہ میں پندہ ہزار دلت گجرات کے اونا ضلع میں سڑکوں پر نکل آئے اور بی جے پی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرنے لگے۔ معاملہ یہ تھا کہ اعلیٰ ذات کے ہندوئوں نے چار دلت نوجوانوں کو پکڑ کر مارا تھا اور اس کا ویڈیو بنا کر وائرل کرا دیا تھا۔ دلت اس معاملہ پر پرامن احتجاج کے لئے بھاری تعداد میں سڑکوں پر اتر آئے۔  اسی طرح جب دلتوں کو مونچھ رکھنے پر مارا پیٹا گیا تو ہزاروں دلت سڑکوں پر اتر آئے اور اپنے مونچھوں کا مظاہرہ کیا۔

صورت حال یہ ہے کہ ہر روز دلتوں کے خلاف جس قسم کے واقعات ہو رہے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ دلت آج بھی چھوا چھوت کے شکار ہیں اور کرائم بیورو نے جو رپورٹ دی ہے اس سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ آزادی کے بعد سے آج تک دلتوں کو سماج میں وہ مقام حاصل نہیں ہوا جس کا وہ استحقاق رکھتے ہیں۔

 
انڈین نیشنل کانگریس، 24، اکبر روڈ، نئی دہلی – 110011، انڈیا، ٹیلیفون: 23019080-11-91 | فیکس: 23017047-11-91 | ای میل: connect@inc.in © 2012-2013 کل ہند کانگریس کمیٹی۔ جملہ حقوق محفوظ ۔ شرائط و ضوابط | رازداری پالیسی